| View previous topic :: View next topic |
| Author |
Message |
BABU Moderator

Joined: 29 May 2007 Posts: 2359 Location: Saudia
|
Posted: Mon Jan 21, 2008 12:20 pm Post subject: &&-Mafrur_e_Mohabt<مفرورِمحبت>-& |
|
|
========مفرورِمحبت=======
.
چار سال پرانا سوکھا ہوا گلاب کا پھول پھر سے تازہ ہو رہا تھا۔ چار سال پہلے یہی پھول اس نے اپنے پاؤں سے مسلا تھا۔ اور پچھلے چار سالوں سے یہی پھول اس کے بٹوے میں محفوظ تھا۔ چار سال پہلے بھی وہ اس پھول کو دیکھ کر روتی ہوئی چلی گئی تھی اور وہ اپنے آنسو ضبط کر گیا تھا۔ اور آج ۔ پورے چار سال بعد اس پھول کو محفوظ دیکھنے کے بعد دوبارہ اپنی حرماں نصیبی کا ماتم کر رہی تھی۔ شاہد کی بے بسی چار سال پہلے بھی اسے جانے سے روک نہیں پائی تھی۔ اور آج بھی وہ ضبط کے آخری مراحل پر کھڑا تڑپ رہا تھا۔ وہ اسے روکنا چاہ رہا تھا۔ اور اگروہ چاہتا تواسے روک بھی سکتا تھا، اسے حاصل کر سکتا تھا۔ ۔ لیکن وہ پھر چار سال پرانی تاریخ دہرا رہا تھا۔ وقت ابھی تک اس کے ہاتھ میں تھا۔ اس کی محبت ابھی بھی اس کے انتظار میں تھی ۔ راستے میں کوئی دیوار نہیں تھی۔ کوئی ظالم سماج بھی تو نہیں تھا لیکن اس کے رستے میں چار سال پہلے بھی اس کی محبت آ رہی تھی۔ اور ابھی بھی محبت کے راستے میں محبت ہی کھڑی تھی۔
روزانہ کتنے ہی لوگ مرتے ہیں۔ کچھ خود بخود مر جاتے ہیں۔ کچھ کو خود ہمت کرنا پڑتی ہے۔ہمت تو خیر اس میں بھی تھی لیکن وہ مر بھی تو نہیں سکتا تھا نا۔ زندگی اتنی بےبس تو کبھی نہیں ہوئی تھی کہ آج اسے خود اپنے آپ پر ترس آ رہا تھا۔ اکثر لوگ محبت میں ناکامی کی صورت میں مرنے کا سوچتے ہیں۔ لیکن وہ محبت کے ملنے پر ایسا سوچ رہا تھا۔ ایسا نہیں تھا کہ اسے اپنی محبت سے محبت نہیں تھی۔ یا اس کی محبت کو اس کی جستجو نہیں تھی۔ یا یہ کہ بہت دیر ہو گئی تھی۔ ایسا تو کچھ بھی نہیں تھا۔ لیکن۔۔۔۔ یہ "لیکن" ہی اس کی زندگی کا سب سے بڑا مسٔلہ بنا ہوا تھا۔
اس کی محبت تو اس کے ہوش سنبھالتے ہی اس کے تعاقب میں تھی۔ لیکن وہ اسے سمجھنے سے ہی قاصر رہا۔ چار سال پہلے اسے اس محبت کا ادراک ہواجوکب سے اس کی منتظر تھی۔ اور پچھلے چار سالوں سے وہ اپنی محبت سے بھاگ رہا تھا۔ کبھی بے نیاز بن کر، کبھی کٹھور بن کر اور کبھی پتھر بن کراور کبھی انجان بن کر۔ لیکن وہ اس محبت سے تب بھی پیچھا نہیں چرا پایا تھا۔ اور آج بھی خود کو بے بس تصور کر رہا تھا۔ وہ دوسرے لوگوں سے تھوڑا الگ تھا۔ تھوڑا الگ سوچتا تھا۔ لیکن اس کا الگ ہونا ہی اس کو تڑپنے پر مجبور کر رہا تھا۔ وہ اس وقت اک دوراہے پر کھڑا تھا۔ سجل اس کے سامنے کھڑی آنسو بہا رہی تھی اور شاہداس کے آنسوں بھی نہیں پونجھ رہا تھا۔ اتنا ظالم تو وہ کبھی بھی نہیں رہا تھا۔ چار سال پہلے جب شاہد نے محبت کا اقرار نہیں کیا تھاتب بھی وہ اس کے آنسوں نہیں پونجھ پایا تھا۔ لیکن آج ۔۔ پورے چار سال بعد تو اس نے اقرار بھی کر لیا تھا اور سجل کو چار سال پرانا پھول بھی دکھا دیا تھا جس پر سجل کے آنسو ٹپ ٹپ گر کر اس کو پھر سے تازہ کر رہے تھے۔ اور شاہد سوچ رہا تھا کہ سوکھے ہوئے پھول سے زیادہ کرب تو تازہ ہوتا پھول دے رہا ہے۔ اور وہ اس کے آنسوں پونجھنا بھی چاہتا تھا۔ لیکن ۔۔۔۔۔ اس لیکن سے پیچھا چھڑانا ہی تو اس کے اختیار میں نہیں تھا۔ شاہد کاتبِ تقدیر سے شکوہ کرنا چاہ رہا تھا لیکن۔۔ وہ ایسا بھی تو نہیں کر سکتا تھا نا۔ کاتبِ تحریر تو خود اس کی محبت اس کی جھولی میں ڈال رہا تھا جسے بغیر کسی دشواری کے وہ حاصل بھی کر سکتا تھا۔ لیکن۔۔۔۔۔ یہ لیکن اسے ڈکشنری کا سب سے سفاک لفظ لگ رہا تھا۔ کاش وہ اس "لیکن" کو مٹا سکتا ۔۔ لیکن وہ ایسا بھی تو نہیں کر سکتا تھا نا۔
وہ محبت کو ٹھکرا رہا تھا۔ وہ محبت جو خود چل کر اس کے در تک آ گئی تھی۔ شاید یہ انسانی فطرت کا ہی کوئی عجیب پہلو ہےکہ اگر کوئی چیز بغیر کسی محنت کے مل جائے تو اس کی قدر میں کمی آ جاتی ہے۔ لیکن اگر بات قدر کی ہی تھی تو شاہد کی آنکھیں کسی ان دیکھے درد کوضبط کرنے کی کوشش میں انگارہ کیوں بن رہی تھیں۔ اگر بات قدر کی ہی تھی تو کیوں سجل کا ہر آنسو شاہد کو اپنے دل میں چھید کرتا محسوس ہو رہا تھا۔ وہ محبت کا فلسفہ سمجھتا تھا۔ بلکہ جو بھی محبت کرتا ہے اسے محبت اپنا فلسفہ خود ہی سمجھا دیتی ہے۔ لیکن وہ اس محبت سے رخ پھیرنے پر مجبور تھا۔ جبکہ اس کے دل میں سجل کے علاوہ کوئی اور محبت بھی نہیں تھی۔ وہ خود ہی دنیا سے کچھ الگ نہیں تھا ، وقت نے اسے جس دوراہے پر لا کر کھڑا کر دیا تھا وہ بھی اپنی نوعیت میں الگ ہی تھا۔ بہت الگ۔ جو سننے میں بھی بہت کم آتا ہے اور دیکھنے میں بھی نا پید ہے۔ فیصلے کی گھڑی تھی اور اس کی محبت اس کے سامنے کھڑی تھی۔ وقت کے لمحات سجل کے بہتے آنسوؤں کی طرح ٹپ ٹپ کر کے اس کے ہاتھوں سے پھسل رہے تھے۔ لیکن مسٔلہ تو وقت کا بھی نہیں تھا۔ وہ چاہتا تو سجل سے کچھ وقت مانگ سکتا تھا اور وہ ساری زندگی اس لمحے کے حقیقت ہونے کا انتظار کرنے کے لئے تیار کھڑی تھی ۔ لیکن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
باقی پھر کبھی  |
|
| Back to top |
|
 |
Khamosh-Saya Guest
|
Posted: Mon Jan 21, 2008 1:42 pm Post subject: |
|
|
Lakin..............
Babu Age bhi Post karrrrrrrrrrrrrrrrrrrr |
|
| Back to top |
|
 |
Wajdan Guest
|
Posted: Mon Jan 21, 2008 2:18 pm Post subject: |
|
|
BABU BHOOL GAYA  |
|
| Back to top |
|
 |
BABU Moderator

Joined: 29 May 2007 Posts: 2359 Location: Saudia
|
Posted: Mon Jan 21, 2008 5:15 pm Post subject: |
|
|
| Khamosh-Saya wrote: | Lakin..............
Babu Age bhi Post karrrrrrrrrrrrrrrrrrrr |
Huuuuuuuuuuu ha ha ha
.
Agay Sochnay to do yar
Itna Duffer qism ka Hero Select kr baitha hu..... Naa koi Villian hay naa koi Zalim Smaaj... Aur phir b aisa kr raha hay wo
Don't wory jani... Just joke maar raha thaa.... Saaaaaaara Novel Save hay, Composed hay apun k mind me
Aj yaa kal Bos ko Goli kraa kr baqi ka b type kr k post krta hu
|
|
| Back to top |
|
 |
BABU Moderator

Joined: 29 May 2007 Posts: 2359 Location: Saudia
|
Posted: Mon Jan 21, 2008 5:22 pm Post subject: |
|
|
| Ajnabi wrote: | BABU BHOOL GAYA  |
Kisi ko Btana nahi Bhaaaaaaaaiiiii........
Tujhay apni sb se favorite Prosan ki qasm |
|
| Back to top |
|
 |
BABU Moderator

Joined: 29 May 2007 Posts: 2359 Location: Saudia
|
Posted: Wed Jan 23, 2008 5:02 pm Post subject: |
|
|
مفرورِمحبت۔ قسط نمبر 2:
۔
وہ کہتا تھا کہ "محبت کو امر کرنا چاہتے ہو تو محبت کے عروج پر محبوب سے علیحدہ ہو جاؤ۔" فیضی کہتا مہاراج کی جے ہو۔ آپ کے چرن کدھر ہیں حجور۔ میں آپ کے قدموں کی راکھ اپنے ماتھے پر لگا کر اپنا جیون سپھل کرنا چاہتا ہوں۔ اور پھر دانت پیس کر کہتا۔ بھاڑ میں گئی محبت۔ محبت کو امر کر کے کونسا ثواب مل جاتا ہے بندے کو؟ کونسی آیت مبارکہ یا حدیث شریف میں لکھا ہوا ہے۔ محبت کو امر کرنے کے چکر میں بندہ خود کو خوار کر دے ۔ صدقے جاؤں اؤے، تیری عقلمندی پر ۔ شاہد مسکراتا اور کہتا یار اب کسی فلاسفر نے لکھا ہے تو کچھ سوچ کر ہی لکھا ہو گا نا۔ فیضی چڑ کر کہتا فلاسفر تو پاگل بھی ہوتے ہیں۔ اکثر مفکروں کی ذاتی زندگی ناکام ہی گزرتی ہے۔ کسی بھی ہیرونچی کے پاس بیٹھ جاؤ۔ آدھا گھنٹہ اس سے بات کرنے کے بعد تم یہ تسلیم کر کے اٹھوگے کہ وہ ایک عظیم فلاسفر ہے۔ زندگی کتابی باتوں یا فلسفوں کے سہارے نہیں گزرتی مری جاں۔ چل تُو بتا تُو ایسا کرسکتا ہے کیا؟ اگر تجھے کسی سے سچ مچ محبت ہو جائے ، میں اس حقیقت کو نظرانداز کر کے پوچھ رہا ہوں کہ تیری اتنی اوقات ہی نہیں کہ کوئی تجھ سے بھی محبت کرے، فرض کرو اگر کسی کے بُرے نصیبوں کی وجہ سے یا اس کے بُرے اعمال کی سزا کے طور پر تجھے اس سے محبت ہو جائے تو اس فلاسفر کے عظیم قول پر عمل کروگے کیا۔ شاہد ہنس کر بولا یار میں نے تو بس ایک بات کی ہے کسی جگہ سے پڑھی تھی ویسے ہی سوچا شیئر کر لوں تیرے ساتھ بھی۔ دوبارہ ایسی باتیں میرے ساتھ شیئر کرنے کی کوشش کی نا تو بہت مار کھائے گا تُو میرے سے ۔ چل آ افضل کو پکڑتے ہیں اور سنوکر چلتے ہیں۔ فیضی اور شاہد بچپن کے دوست تھے دونوں نرسری سے لے کر میٹرک تک ایک دوسرے کو برداشت کر رہے تھے۔ آٹھویں کلاس میں افضل بھی ان کے ساتھ شامل ہو گیا تھا اور اس طرح ان کی مثلث مکمل ہو گئی تھی۔ فیضی ان دونوں کے معاملے میں کچھ زیادہ ڈفر تھا۔ وہ زندگی کو بڑے لائیٹ انداز میں لیتا تھا۔ لیکن شاہد اور افضل کچھ میچور اپروچ کے حامل تھے سو ذہنی طور پر شاہد اور افضل کے درمیان زیادہ ایٹیچمنٹ تھی۔ لیکن فیضی کو بھی برداشت کر ہی لیتے تھے اور فیضی ان دونوں کو۔ اس لئے فیضی کا اور ان کا اکثر جگھڑا بھی چلتا رہتا تھا جب وہ کوئی زیادہ اہم موضوع اس سے شیئر نہیں کرتے تھے۔ لیکن بعد میں ترس کھا کر بتا ہی دیتے تھے اور وہ ان دونوں سے لڑنا شروع ہو جاتا تھا۔ دوستی کے اس طویل دور میں کچھ ایسے دور بھی آئے تھے جب یہ چھوٹی موٹی لڑائیاں سنجدیدہ صورت اختیار کر لیتیں تھی۔ لیکن زیادہ عرصہ وہ ایک دوسرے سے دور نہیں رہ پاتے تھے اور پھر سے ایک دوسرے کو برداشت کرنے کے لئے خود کو ذہنی طور پر تیار کر ہی لیتے تھے۔ میٹرک کے بعد تینوں کے کالج بھی علیحدہ علیحدہ ہو گئے ۔ شاہدآٹو ڈیزل کا ڈپلومہ کرنے پولیٹیکنکل کالج چلا گیا ، افضل کو ایم۔اے۔او کی یونین زیادہ اپیل کر گئی۔ اور فیضی سول لائنز کی بنیادوں میں بیٹھ گیا۔ لیکن پھر بھی صبح صبح بس اسٹاپ پر میٹنگ فکس ہو جاتی اور پھر تینوں کی منزل بھی ایک ہی ہوتی تھی۔ اب کالج سے اکٹھے بھاگیں گے تو ایک ہی جگہ جائیں گے نا۔ تینوں کو سویمنگ کا بہت کریز تھا لہذا لاہور نہر کے سارے نشیب و فراز پر ان کے قدموں کے نشانات موجود تھے۔ اسٹوڈنٹ لائف تھی بے فکری ہی بے فکری تھی۔ کنڈیکٹروں سے مار پیٹ ، جی بھر کر آوارہ گردی اور کبھی کبھی پھلجڑی ٹائپ کی لڑکیوں پر فقرے کسنا، غرض ان کی تمام حرکات ان کو "پروفیشنل اسٹوڈنٹ" ثابت کرتی تھیں۔ اور یہی وہ دور تھا جب شاہد اور سجل کی کہانی بھی ابتدائی مراحل پر تھی لیکن پیٹ کا گھنا تھا سو شیئر نہیں کر پایا۔ افضل کو کچھ کچھ علم تھا اور وقتاً فواقتاًحوصلہ افزائی کے لئے نادر قسم کے مشورے بھی دیتا رہتا تھا لیکن بد قسمتی ابھی پوری طرح شاہد کا مقدر نہیں بنی تھی سو ابھی تک وہ ان مشوروں پر عمل کرنے سے اجتناب برت رہا تھا۔ اور رہا فیضی تو وہ اپنی موج میں مست تھا وہ دنیا میں اناج کا قحط ڈالنے اور ٹینشن فری لائف گزارنے آیا تھا۔ سو ابھی تک وہ شاہد کی اس کارستانی سے مکمل بے خبر تھا۔
شاہد کی قوت فیصلہ بہت غیرلچکدار تھی۔ وہ زمانے کو اپنے نظریات کی روشنی میں دیکھتا تھا۔ عموماً تو ہر شخص ہی دنیا کو اپنی سوچ ، فہم اور نظریات کی روشنی میں دیکھتا ہے لیکن ایک عام شخص کے ذہن میں اپنے محدود مشاہدے اور علم کی بنا پراپنے نظریات کے غلط ہونے کا احساس بھی رہتا ہے۔ جس کی وجہ سے ایک عام شخص کے فیصلوں اور نظریات میں زیادہ مضبوطی نہیں رہتی۔ اس کی اس غیر لچکدار طبیعت کو اس کی ہٹ دھڑمی سے منسوب نہیں کیا جاسکتا۔ اکثر اوقات وہ اپنے قریبی لوگوں کے اصرار یا اعتراضات کی بنا پر اپنے اصولوں سے سمجھوتا بھی کر لیا کرتا تھا لیکن اپنے دل کو باور نہیں کرا پاتا تھا۔
فرسٹ کزن ہونے کے ناتےسجل سے اس کا تعلق بچپن سے ہی تھا۔ وہ اس کے حالات ، عادات اور مشاغلات سے کافی حد تک آگاہ تھا۔ لیکن اس کی غیر سنجیدہ حرکتوں اور شرارتوں پر خود کو چڑنے سے نہیں روک پاتا تھا۔ شاید یہ اس کا گریز تھاجو سجل کی اس میں دلچسپی کا باعث بنا یا پھر اس کی بدقسمتی کا آغاز جو کہ کاتب تقدیر اس کے مقدر میں بہت پہلے سے ہی لکھ چکا تھا۔ سجل کو بھی اپنے اس کزن کو چڑانے میں کافی لطف آتا تھا اور وہ جان بوجھ کر ایسی حرکتیں کرتیں جو اس کو تپا جاتیں تھی۔ کبھی اس کو کہتی کہ باہر کوئی تم سے ملنے آیا ہے جبکہ دروازے پر پڑوسیوں کے دنبے کے علاوہ کوئی نہیں ہوتا تھا اور وہ دنبہ اتنا بدذوق قطعی نہیں تھا کہ شرفِ ملاقات کے لئے شاہد کو دعوت دیتا۔ کبھی سوئے ہوئے شاہد پر پانی کا جگ الٹا جاتا اور کبھی اس کو دیکھ کر بڑی معصوم سی صورت بنا کر کیوٹ سی مسکراہٹ دی جاتی لیکن اکثر وہ خاموش رہتا اور باز اوقات برس پڑتا۔ اور پتہ نہیں سجل کو اس کا خاموش رہنا پسند آیا یا موسلا دار برسنا۔ وہ من ہی من میں اپنا آپ اس پر نچھاور کر بیٹھی تھی اور وہ ڈفر ابھی تک بے خبر تھا۔ اور سجل سوچتی تھی کہ جس طرح کا اس کا رویہ ہے اس کا بے خبر رہنا ہی سجل کی صحت کے لئے اچھا تھا۔
شاہد کوئی بہت زیادہ سریل یا سنجیدہ طبیعت کابندہ بھی نہیں تھا ۔ دوستوں کے ساتھ وہ ساری حرکتیں کرتا تھا جو اس کی عمر کا تقاضا تھیں۔ لیکن گھر میں اکثر اپنے خول میں مقید رہنا پسند کرتا تھا۔ ہم میں سے اکثر لوگ مختلف جگہوں پر مختلف ایٹیچیوڈاپناتے ہیں۔ ہمارے گھر، آفس اور دوستوں میں ہمارا ردِعمل مختلف ہوتا ہے۔ وہ بھی ایسا ہی تھا۔
وہ زمانے سے تھوڑاسا جدا پیدا ہوا تھا۔ خالق نے اس کی تخلیق تھوڑی ہٹ کر کی تھی۔ اور یہ الگ ہونا ہی اس کے لئے باعث عذاب بن جاتا تھا۔
وہ کالج کے ابتدائی سالوں کا ایک ویلنٹائن ڈے تھا۔ اور ان تینوں کو اس سے کوئ سروکار نہیں تھا۔ اور وہ "ملا کی دور مسجد تک" کے مصادق حسبِ معمول سنوکر کلب میں لوگوں کو تپانے میں مشغول تھے۔ شاہد اور فیضی جب کسی سے گیم لگاتے تھے تو ہاتھوں سے زیادہ زبان سے کھیلنے کی کوشش کرتے تھے۔ اور ان کا یہ انداز یا تو دوسرے کو تپا دیتا تھا اور یا وہ ہاتھ جوڑ کر اگلی گیم کھیلنے سے انکار کر دیتا تھا۔ اور وہ دونوں اس کو اپنا بہت بڑا کارنامہ تصور کرتے تھے۔ ان دونوں کے برعکس افضل تھوڑی سنجیدہ طبیعت رکھتا تھا۔ بلکہ اکثر اوقات غصے میں ہی رہتا تھا۔ گیم کھیلتے ہوئے بال کو یوں گھورتا تھا کہ اگر پاکٹ میں نا گئی تو بال کا سر پھاڑ دے گا۔ لیکن اول تو یہ کہ بال کا سر ہی نہیں ہوتا اور دوسرا سنوکر بالز سولڈ قسم کے ماربل کی ہوتیں ہیں سو بال کے پاکٹ میں نا جانے پر بھی وہ اس کو کچا کھانےکی شدید خواہش کو عملی جامہ نہیں پہنچا سکتا تھا۔ ان تینوں میں شاہد تھوڑی معقول طبیعت کا تھا ۔ فیضی ہاف مینٹل اور افضل فل مینٹل تھا اسی لئے شاہد یا فیضی کی بھی کسی لڑائی میں بھی پہل افضل ہی کرتا تھا۔ بلکہ باقی دونوں کی کلاس وہ اس لئے بھی لیتا تھا کہ اٹیک کیوں نہیں کیا تھا۔ لڑائی ہونے کی صورت میں شاہد بھی تھوڑا بہت حصہ ڈال کر ثوابِ دارین حاصل کرنے کی کوشش کرتا جبکہ فیضی لڑنے کی بجائے چھڑانے کو ترجیح دیتا اور نتیجے کے طور پر دونوں طرف سے معقول قسم کی مرمت کرواتا۔ لیکن الگ الگ طبیعت ہونے کے باوجود وہ تینوں ایک دوسرے کو بھگتنے پر مجبور تھے۔ ویلنٹائن کی شام کو جب شاہد گھر آیا تو پتہ چلا سجل صاحبہ قدم رنجہ فرما چکی ہیں ۔ گو وہ دوسرے شہر میں مقیم تھی لیکن مہینے میں کم از کم ایک بار تو ضرور آتی تھی۔ سجل شاہد کی خالہ کی بیٹی تھی ، اس کے والد اس دنیا میں نہیں تھے اور وہ اپنی ماں کے ساتھ اپنے نانا کے گھر میں رہتی تھی۔ دونوں بہنوں میں پیار زندہ تھا سو سجل کا اپنی امی کے ساتھ اکثر لاہور کا چکر لگتا ہی رہتا تھا۔ اور شاہد بیچارے کی شامت آئی ہی رہتی تھی۔ سوکھانا کھاتے ہی شاہد نے چھت کا رخ کیا لیکن سجل بھی آج فائینل اننگز کھیلنے آئی تھی سو وہ بھی سب سے آنکھ بچا کر چھت پر پہنچ گئ۔ "بات سنو" شاہد نے اپنے عقب میں اس کی آواز سنی۔ اس کے ہاتھ میں تازہ گلاب کی ایک کلی موجود تھی۔ شاہد نے ادھر ادھر دیکھا اسے سجل کے انداز سے کسی خطرناک سازش کی بو آ رہی تھی وہ ابھی تک اس بات سے یکسر بے خبر تھا کہ زیست اس سے زندہ رہنے کا تاوان مانگنےکے لئے تیار کھڑی تھی اور اس تاوان کو اسے موت سے بھی کربناک درد جھیل کر ادا کرنا تھا۔
۔
۔
باقی آنسو سوکھنے کے بعد
|
|
| Back to top |
|
 |
Khamosh-Saya Guest
|
Posted: Thu Jan 24, 2008 8:10 pm Post subject: |
|
|
Uffffffffffff Ansoo Sookhne k baad :S
Babuuuuuuuuuuuuuuuuuuuuuuuuuuuuuuuu
Kuch nahi  |
|
| Back to top |
|
 |
BABU Moderator

Joined: 29 May 2007 Posts: 2359 Location: Saudia
|
Posted: Sat Jan 26, 2008 8:57 pm Post subject: |
|
|
| Khamosh-Saya wrote: | Uffffffffffff Ansoo Sookhne k baad :S
Babuuuuuuuuuuuuuuuuuuuuuuuuuuuuuuuu
Kuch nahi  |
Sayaaaaaaaaaaaa
Tu Bnda Theek nahi hay
Same Date aur Same timing ki 2 posts me say Aik me tum bol rahay ho k Urdu Font ka msla aa raha hay isliye comments nahi diye
to phir "Ansu Sookhnay k baad" Kaisay read kr liyaa?????
.
Me bol raha hu Mujhay topy naa pehnaaya kr... Seedhi terha bol diya kr na Faltu Time nahi hay meray novel read krnay kaa
Is Waalay novel ke may ab koooooooi episode post nahi kru gaa..... I Am on Strike from this right moment |
|
| Back to top |
|
 |
BABU Moderator

Joined: 29 May 2007 Posts: 2359 Location: Saudia
|
Posted: Sun Jan 27, 2008 9:30 pm Post subject: |
|
|
مفرورِمحبت۔قسط نمبر3:
.
۔
کبھی کبھی لمحے صدیوں پر بھی محیط ہو جاتے ہیں۔ یہ اس شخص سے پوچھیئے گا جو اپنی ساری زندگی کسی ایک لمحےکے حقیقت ہونے کے انتظار میں گزار دیتا ہے، یا پھرکسی ایک لمحے کی اسیری میں، اور یا پھر صرف ایک لمحےکی غفلت کا تاوان ساری عمر ادا کرتا رہتا ہے۔
شاہد کے حد سے زیادہ سنجیدہ مزاج اور لاتعلق سے انداز سے وہ بیچاری پہلے ہی خائف تھی۔ اب ہمت کر کے چھت پر تو آ گئی تھی لیکن بولنے کی بجائے بھاگنے کے متوقع راستے کا انتخاب کرنے پر سوچ رہی تھی۔ ادھر شاہد کی چھٹی حس بھی اسے آج کسی غیرمتوقع صورتحال کے ظہورپذیر ہونے کے سگنل دے رہی تھی۔ اس نے بڑے کھٹور سے انداز میں اسے گھورتے ہوئے دوبارہ پوچھا۔ ہاں، کیا مسٔلہ ہے؟ یہ پھو، پھول لائی تھی "آپ" کے لئے۔ شاہد کے لئے یہ فیصلہ کرنا مشکل ہو رہا تھا کہ پھول پر حیرت کا اظہار کرے یا "آپ" کے باادب اندازِتخاطب پر۔ اس نے تو ساری زندگی اسے تُو ترا کر کے ہی بات کرتے دیکھا تھا خودسے، اب اچانک یہ اندازِپذیرائی اسے فرطِ حیرت میں ڈال رہی تھی۔ پھول ہے تو میں کیا کروں؟ شاہد نے بیگانگی کی انتہا کرتے ہوئے پوچھا۔ سجل نے دھیرے دھیرے اپنی آنکھیں اٹھائیں اور بجائے کچھ بولنے کے شاہد کی طرف دیکھنا شروع کر دیا۔ اور شاید یہی وہ لمحہ تھاجو زیست پر سب سے گراں گزرنے والا تھا۔ کیا نہیں تھا ان آنکھوں میں ، محبت، شدت ، پیاس ، طلب اور ایک جنون کی کشمکش۔ اس ایک لمحے کے لئے تو شاہد بھی اپنی جگہ پر ساکت سا ہو گیا تھا۔ کچھ بولنے کی سکت تو غالباً دونوں کی ہی سلب ہو چکی تھی۔ کیونکہ بعض اوقات احساست اور محسوسات اتنے بڑھ جاتے ہیں کہ لفظ بے معنی لگنا شروع ہو جاتے ہیں۔ کچھ کیفیات ایسی بھی ہوتی ہیں نا جنہیں لفظوں کے ذریعے بیان کرنا ممکن نہیں رہتا۔ انہیں صرف محسوس کیا جا سکتا ہے۔ کہتے ہیں کہ لفظ خالی برتن کی طرح ہوتے ہیں اور ہمارے لہجےاس میں مفہوم انڈھیلتے ہیں۔ اسی لئے مختلف لہجوں میں بولے گئے ایک ہی لفظ کے معنی مختلف ہوتے ہیں۔ لیکن ادھر تو لفظوں ہی ناپید ہو چکے تھے، لہجوں کے لئے تو جگہ ہی نہیں بچی تھی ۔ بعض اوقات ہمارے پاس کوئی اختیار بھی نہیں رہتا، حتی کہ بے اختیار ہونے کا بھی۔ وہ دونوں بھی کسی ایسی ہی کیفیت سے دوچار تھے۔
سب سے پہلے شاہد ہی اس لمحے کے سحر سے آزاد ہوا۔ تمھارا دماغ خراب ہو گیا ہے کیا؟ اس نے دوبارہ اپنے سنجیدگی کے لبادے میں سمٹتے ہوئے کہا۔ لیکن اس دفعہ اس کا لہجہ اس کے الفاظ سے غداری کر گیا۔ بہت بُری ہوں میں کیا؟ سجل ابھی بھی اسی لمحے کے سحر میں تھی۔ شاہد کے پاس اس کے سوال کا کوئی جواب نہیں تھا۔ اس کے لئے تو خود کو دوبارہ اپنے خول میں سمیٹنادشوار ہو رہا تھا الفاظ کہا سے تلاش کرتا۔ سجل یہ ٹھیک نہیں ہے۔ اس دفعہ وہ باوجود کوشش کے اپنے لہجے کی سختی کو برقرار نہیں رکھ پایا۔ مجھے نہیں پتہ کیا ٹھیک ہے اور کیا غلط ہے شاہد، میں خود اپنے اختیار میں نہیں ہوں، میں نے بہت سمجھانے کی کوشش کی خود کو لیکن اپنی دلیلوں سے خود کو ہی قائل نہیں کر پائی میں۔ میں ایک لڑکی ہوں شاہد، مجھے تم سے زیادہ احساس ہے اس بات کا کہ یہ سب ٹھیک نہیں ہےلیکن میں کیا کروں ، میں تو۔۔۔ اور اس سے آگے وہ کچھ بول نہیں پائی اور نارسائی کا کرب جھیلنے کی کوشش میں ناجانے کب کے رکے آنسوؤں کو ایک رستہ مل گیا تھا۔ وہ زمین پر بیٹھی پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی، اور اس سنگدل کے پاس اسے دلاسہ دینے کے لئے کچھ بھی نہیں تھا۔
لیکن اگر وہ واقعی سنگدل تھا تو پھر ضبط کی شدت سے اس کی اپنی آنکھیں کیوں سرخ ہو رہی تھیں؟ وہ رو رہی تھی اور وہ خود سے یہی سوال پوچھ رہا تھا۔ وہ ایک پختہ سوچ کا حامل ایک روایت پسند قسم کا بندہ تھا، اس کا دماغ اسے بتا رہا تھا کہ یہ سب ٹھیک نہیں ہے، لیکن اس کا دل اعلانِ بغاوت پر آمادہ ہوا بیٹھا تھا۔ وہ دوبارہ سے خود کو اسی لمحے کے سحر میں جکڑتا ہوا محسوس کر رہا تھا۔ لیکن اس دفعہ وہ آسانی سے اس لمحے کی گرفت میں آنے والا نہیں تھا۔ دل و دماغ میں ایک شدید قسم کی لڑائی چل رہی تھی اور دونوں جانب سے نشانہ بھی وہی بن رہا تھا۔ یہ غلط ہے، یہ ٹھیک نہیں ہے، یہ سب فقط وقتی سراب ہے، بصری دھوکا ہے، ہمیں اسی معاشرے میں رہنا ہے، یہ پیار محبت جیسی چیزیں ذلیل کروا کے رکھ دیتی ہیں انسان کو، میرے ساتھ ساتھ وہ بھی رسوا ہو گی دماغ دلیل پر دلیل دیے جا رہا تھا۔ اور دل، آج تو وہ بھی ہٹ دھڑمی کی انتہا کئے بیٹھا تھا۔ وہ بغیر کسی دلیل کے محبت کے امڈتے سمندر میں ڈوبنے کے لئے تیار کھڑا تھا۔ لیکن دماغ کا پلہ بھاری جا رہا تھا، برسوں سے خود پر چڑھایا ہوا سنجیدگی اور لا تعلقی کا خول اتنی جلدی کیسے اتر جاتا؟ آخر اس نے دماغ کے حق میں فیصلہ دے دیا۔ اور دل ، وہ بیچارہ تو پہلے ہی بڑے عرصے کے بعد تھوڑاضد پر آیا تھا، اسے ڈانٹ تھپک کر نظر انداز کر دیا گیا۔
میں کہتا ہوں دفع ہو جاؤ ادھر سے، دماغ خراب ہو گیا ہے تمھارا، خبردار جو دوبارہ ایسی واہیات بات کے بارے میں سوچا بھی، ہر چیز کی ایک حد ہوتی ہے لیکن آج تو تم نے انتہا کر دی بے شرمی کی، میرا نہیں تو اپنی عزت کا ہی خیال کر لینا تھا ، اپنی کمزور ماں یا بہن بھائیوں کا ہی کچھ پاس کر لیتی، اس نے پھنکارتے ہوئے کہا، اور پھر نیچے گری ادھ کھلی کلی کو بھی اپنے پاؤں سے مسل کر رکھ دیا۔ سجل بے یقینی اور کرب کی آخری حدوں پر کھڑی بس اسے دیکھتی ہی رہ گئی۔ وہ پتھر دل تھا اتنا تو اسے بھی پتہ تھا لیکن اس حد تک بھی ہو سکتا ہے اسے آج اندازہ ہو رہا تھا۔ دفع ہو جاؤ ادھر سے، وہ پھر پھنکارا۔ سجل آہستہ آہستہ کھڑی ہو گئی، اس کی نگاہیں بُری طرح مسلی ہوئی کلی کو دیکھتے ہوئے اس پتھر سے دوچار ہوئیں۔ وہ چاہے جتنا بھی سخت دل بن رہا تھا لیکن ان نظروں کی تاب نہیں لا سکا اور دوسری طرف دیکھنا شروع کر دیا۔ وقت ان دونوں کے درمیان جیسے ٹھر سا گیا تھا۔ اور شاہد دل کی گہرائیوں سے اس گھڑی کے ٹلنے کی دعا کر رہا تھا، اس وقت اس کے دل میں اگر کوئی شدید خواہش جنم لے رہی تھی تو وہ یہی تھی کہ یا تو وہ اس کی نظروں سے دور ہو جائے یا پھر وہ کہیں دور بھاگ جائے۔ اس نے ڈرتے ڈرتے دوبارہ سجل کی آنکھوں کی طرف دیکھا، لیکن اس دفعہ ان آنکھوں میں ایک وحشت بسیرا کر چکی تھی۔ نارسائی کا ناقابل برداشت درد ہچکولے لے رہا تھا اور ایک بے لگام خواہش دم توڑتی نظر آ رہی تھی۔ اس کی آنکھوں میں شدید غصہ جھلک رہا تھا لیکن شاہد باوجود کوشش کے ان آنکھوں میں اپنے لئے نفرت نہیں تلاش کر پایا۔ لیکن اس وقت وہ ان آنکھوں میں اپنے لئے نفرت دیکھنا چاہتا تھا ورنہ شاید خود کو کبھی معاف نہیں کر پاتا۔
۔
پھر آنسو آگئےہیں،
ٹائپ نہیں ہو رہا، باقی پھ۔۔۔۔
|
|
| Back to top |
|
 |
Wajdan Guest
|
Posted: Tue Jan 29, 2008 10:43 am Post subject: |
|
|
| BABU wrote: | | Ajnabi wrote: | BABU BHOOL GAYA  |
Kisi ko Btana nahi Bhaaaaaaaaiiiii........
Tujhay apni sb se favorite Prosan ki qasm |
ok maaf kia  |
|
| Back to top |
|
 |
BABU Moderator

Joined: 29 May 2007 Posts: 2359 Location: Saudia
|
Posted: Sat Feb 23, 2008 6:16 pm Post subject: |
|
|
مفرورِ محبت۔ قسط نمبر4:
۔
وہ شدت سے طلب گزار تھا کہ وہ اسے نفرت سے دیکھے، اسے بُرا بھلا بولے، لیکن وہ تو اسے سچ میں اذیت دینے پر تلی بیٹھی تھی۔ وہ تو کچھ بول ہی نہیں رہی تھی۔ شاہد اس لمحے سے فرار کی دعا کر رہا تھا، لیکن اگر سب دعائیں ایسے ہی قبول ہونا شروع ہو جائیں تو انسان خالق کی بے نیازی والی صفت کا قائل کیسے ہو گا۔ خالق بھی اس کے مقدر کا فیصلہ اس کے ہاتھوں میں سونپ کر آج بے پرواہ بنا ہوا تھا۔ شاہد خود اپنی حالت کا تجزیہ کرنے سے عاجز تھا۔ ایک طرف تو وہ ان ساری باتوں کو اخلاقی پستی سے منسوب کرتا تھا اور دوسری طرف اس کا اپنا آپ اس کے اختیار سے باہر ہونے کو مچل رہا تھا۔ وہ ایک کربِ مسلسل کی کیفیت میں گرفتار ہو چکا تھا، آخر سجل کو اس پر ترس آ ہی گیا یا شاید اس کی سزا کا آغاز ہو چکا تھا، سجل کے بہتے ہوئے آنسوں بھی اب تھم چکے تھے۔ آنسوں آنکھ کے دریچے سے باہر نکل پڑیں تو کرب کا احساس تھوڑا کم ہو جاتا ہے، لیکن وہ تو شاید جان بوجھ کرکرب جھیلنا چاہتی تھی، وہ تو ان آنسوؤں کو اپنے سینے میں اتارنے کا ارادہ کر بیٹھی تھی۔ سزا کا لفظ اگر شاہد کی زیست میں مفہوم بن کر شامل ہونے جا رہا تھا تو اپنے لئے جزا وہ کیسے تجویز کر سکتی تھی۔ اور پھر آہستہ آہستہ قدم اٹھاتے وہ چھت سے نیچے چلی گئی۔
اس کے جانے کے بعد بھی کتنی ہی دیر شاہد اس کے وجود کے اسرار میں مقید کھڑا رہا۔ پھر کسی معمول کی طرح اس نے قدم بڑھایا اور اپنے پاؤں سے مسلا گلاب اٹھا کر اس سے گرد جھاڑنا شروع کر دی، وہ یہ سب کیوں کر رہا تھا؟ کیا وہ اپنے فیصلے پر شرمندہ تھا؟ کیا وہ بھی محبت کے آکٹوپس کے شکنجے میں آ چکا تھا؟ ابھی ایک گھنٹہ پہلے تو زندگی بہت سہل سی تھی۔ کوئی فکر پریشانی تو نام کو نہیں تھی۔ لیکن اسے کیوں محسوس ہو رہا تھا کہ گزرتے ایک لمحے کے روگ کا درد اسے صدیوں جھیلنا پڑے گا۔ وہ اگر واقعی اسے چاہنے لگا تھا تو پھر اس کا ہاتھ کیوں نہیں تھام لیتا؟ وہ اپنے آپ سے یہ سوال کر رہا تھا اور اس کا اپنا آپ تو اس کے پاس رہا ہی کب تھا جو اسے جواب دیتا۔ اس کا اپنا آپ تو جانے والی کے سحر میں گرفتار ہو کر اس کے ساتھ ہی جا چکا تھا۔
چھت پر بیٹھا کافی دیر وہ سردی سے بے نیاز ہو کر خود پر گزرنے والی اس ناگہانی واردات کے بارے میں سوچتا رہا۔ اور پھر اس نے ان ساری باتوں کو وقتی فتور سمجھ کر جھٹک دیا۔ مسلی ہوئی بے جان کلی ابھی تک اس کے ہاتھ میں تھی اور دو پتیاں نیچے زمین پر بکھری ہوئیں تھی۔ اس نے اپنی جیب سے ایک کاغذ نکالا اور گلاب کی کلی کو بڑی احتیاط سے اس کاغذ میں لپیٹ دیا۔ پھر کچھ سوچ کر اس نے کاغذ کو دوبارہ کھولا اور زمین پر گری ہوئیں پتیاں اٹھاکر ان کو بھی محفوظ کر لیا۔ چلو بیوقوفی کی ایک یادگار ہی سہی۔ اس نے مسکراتے ہوئے خودکلامی کی۔ اور کاغذ کو اپنے بٹوے میں رکھ کر نیچے آ گیا۔
خلاف توقع وہ سب کے ساتھ بیٹھی کھانا کھا رہی تھی اور ویسے ہی چہک رہی تھی جیسا اس کی عادت تھی۔ تو کیا ؟ وہ سب؟ شاہد بیوقوفوں کی طرح خود سے سوال کر کے رہ گیا۔ وہ اس کی طرف نہیں دیکھ رہی تھی ، شاہد جان بوجھ کر اس کے بلکل سامنے جا کر بیٹھ گیا۔ لیکن اس نے کوئی توجہ نہیں دی اور رخ تھوڑا سا موڑ کر بیٹھ گئی۔ کچھ دیر بعد وہ ایک دم اٹھ کر جانے کے لئے کھڑی ہو گئی۔ سجل پانی تو پکڑانا ذرا۔ پانی کا جگ سجل کی بہ نسبت شاہد کے زیادہ قریب پڑا تھا لیکن اس کوکچھ اور نہیں سوجھا تو ایک دم بول پڑا۔ سجل نے جھکے چہرے کے ساتھ دوبارہ بیٹھتے ہوئے پانی کا جگ اس کے مزید قریب کیا اور جانے کے لئے مڑ گئی۔ وہ اس کی آنکھوں میں جھانکنا چاہتا تھا لیکن دیکھ نہیں پایا۔ اب شاہد کو ایک عجیب سی بے چینی گھیر چکی تھی۔ اس کی موجودگی میں وہ ٹی وی لاؤنج میں جانے سے بھی احتراز کیا کرتا تھا لیکن اس وقت وہ اپنے سوالوں کا جواب چاہتا تھا۔
شاہد بیٹا، اپنے ابو سے پیسے لے کر یہ دوائیاں تو لے آؤ ذرا، شاہد کی امی نے اسے پیچھے سے آواز دی۔ اور نا چاہتے ہوئے بھی اسے پلٹنا پڑا۔ ماں کو ٹالنا اس کے لئے ہمیشہ بہت مشکل رہا تھا سو چارونچار وہ میڈیسن لینے چلا گیا۔ جب وہ واپس آیا تو وہ ٹی وی لاؤنج سے جا چکی تھی۔ صبح کالج جانے کے وقت پر وہ اٹھی نہیں تھی اور کالج سے واپسی پر اس کے جانے کی خبر سنی۔ اب یہ ایک عجیب قسم کی ٹینشن اسے گھیرے ہوئے تھی۔ گھر میں دل نہیں لگ رہا تھا سو وہ باہر نکل گیا، باہر جا کر بھی وہ ایک عجیب سی الجھن میں متبلا تھا۔ اؤے،، ریڈ کو مارنا تھا ڈفر۔۔ بلیک کا فاؤل کروا دیا نا۔۔ تجھے ہوا کیا ہےیار آج؟ فیضی شاہد کی غائب دماغی کی وجہ سے یہ تیسری گیم ہارنا نہیں چاہتا تھا۔ یار میرا نہیں دل کر رہا بس۔ شاہد نے اسٹک رکھتے ہوئے اپنا فیصلہ سنایا۔ اوئے تیرا دماغ خراب ہو گیا ہے کیا؟ بیسٹ آف تھری ہے یار، اور حسب معمول جیب میں زہر کھانے کے لئے بھی پیسے نہیں ہیں اور آج تو انور بھی ادھار کرنے کے موڈ میں نہیں لگ رہا۔ فیضی نے بڑی رونی صورت بنا کر شاہد کو صورتحال کی نذاکت کا احساس دلایا۔ موڈ تو اسے بھی صبح سے اس کا ٹھیک نہیں لگ رہا تھا لیکن اس وقت اس کے لئے موڈ سے زیادہ گیم ضروری تھی۔ شاہد نے فیضی کے اصرار پر کھیلنا تو شروع کر دیا لیکن کونسٹریشن نہیں کر پایا اور وہ گیم بھی وہ ہار گئے۔ انور نے بھی صاف انکار کر دیا ادھار کرنے سے۔ ٹھیک ہے بھائی یہ بندہ تیرے پاس گروی رکھوا کے جا رہا ہوں، فیضی نے شاہد کا ہاتھ انور کو تھماتے ہوئے کہا۔ جب پیسے ہونگے تو واپس لے جاؤں گا۔ او بھائی، اسے تو کسی نے اسکریپ کے بھاؤ بھی نہیں خریدنا مجھ سے میں اس کا کیا کروں گا؟ انور بھی آج بعزتی خراب کرنے پر تلا ہوا تھا۔ تجھے کہہ رہا تھا میں کہ آنکھیں کھول کر گیم کھیل۔ اب ٹکے ٹکے کے بندوں سے باتیں سنوا رہا ہے۔ فیضی نے اپنا غصہ شاہد پر اتارتے ہوئے کہا۔ انور شام کو تجھے پیسے دے دونگا یار ابھی تنگ نا کر، شاہد نے جان چھڑاتے ہوئے کہا۔ پیسے تو میں لے ہی لونگا مری جاں ، تُو یہ بتا تجھے ہوا کیا ہے؟ انور نے بھی شاہد کی کھوئی کھوئی طبیعت میں دلچسپی لیتے ہوئے پوچھا۔ کچھ نہیں یار، بس طبیعت تھوڑی ٹھیک نہیں۔ اور پھر کسی نا کسی طرح وہ ان دونوں سے جان چھڑا کر دوبارہ گھر چلا گیا۔ لیکن گھر میں بھی وہ اس الجھن سے چھٹکارہ حاصل نہ کر پایا۔
خالق کی بڑی بڑی نعمتوں میں وقت بھی شامل ہے۔ جو زخم لگانے کے بعد درد کا احساس بھی خود ہی کم کر دیتا ہے۔ کچھ دن اسی کشمکش میں رہنے کے بعد وہ کافی حد تک سنبھل چکا تھا۔ اس نے خود کو سمجھا لیا تھا، اگر تو وہ مذاق تھا تو اس کی صحت پر کیا اثر، اور اگر وہ سنجیدہ تھی تو بھی اسے دھتکار تو چکا ہی تھا وہ تو پھر اس بات پر سوچنے کا کیا مطلب۔ پھر کافی مہینوں تک اس کا چکر ہی نہیں لگا لاہور کا۔ کہا تو مہینے میں کم از کم دو دفعہ حاضری یقینی ہوا کرتی تھی اور اب، تو اس کا مطلب ہے وہ سنجیدہ تھی، وہ خود سے سوال کرتا اور پھر خود ہی سر جھٹک کر آگے بڑھ جاتا۔ اور پھر ایک دن جب وہ گھر داخل ہوا تو خالہ کے آنے کی خبر سنی۔ بس سجل کی طبیعت بہت خراب رہی پچھلے دنوں ، موا بخار تو اترنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا، ابھی اللہ اللہ کر کے تھوڑی طبیعت سنبھلی ہے بچی کی تو میں نے سوچا تھوڑی ہوا تبدیل ہو جائے تو شاید پھر سے پہلے جیسی ہو جائے۔ گھر میں داخل ہوتے ہی اس کے کانوں میں خالہ کی آواز پڑی۔ سجل بیمار تھی کیا؟ شاہد کے سینے سے جیسے دل نام کا لوتھڑا غائب ہو چکا تھا، وہ ایک ہیجانی کیفیت میں اسے دیکھنے کے لئے اندر کی طرف لپکا۔ اور پھر دروازے پر ہی اس کے قدم جیسے پتھر کے ہو گئے۔ _________________
----

. . |
|
| Back to top |
|
 |
RareGold Family Member
Joined: 30 Sep 2007 Posts: 10
|
Posted: Tue Feb 26, 2008 12:48 pm Post subject: Koi to kuch bolay! |
|
|
Asalaamu alaikum Babu bhai ye mut samjhiyeh ga main aapko discourage ker rahi hoon magar to the point aur straight forward baat kerna @asand kertti hoon issi liye koi tamheed nahi bus itna kehna hay keh aapko likhnay ka shauq hay bohot achi baat hay magar uss say zayda achi baat ye hoggie keh khud may mutalay ka shauq bhi paida keriyeh aur Urdu may abhi bohot say writers aisay hongay jinhain aap perhain to bohot kuch seekh saktay hain aur issi rah may aapkay kaam bhi aayeh ga, aap log aaj kul ki nojawan nasal hain aur jin kahanion may aap log luggay huay hain inn say laakh derjay behter hay keh hum Umera Ahmad RIffat Siraj aur aisay hee class kay likhnay walon ko na sirf khud perhain bulkeh share bhi kerain, aakhir aap iss per itna time lagatay hain unn books ki scanning per lugayen to wo sub log jo aapko shauq yaa majboori say perhtay hain wo zindagee ki REALITIES ko na sirf perh sakain gey bulkeh SEEKH bhi sakain gey kuch, ALLAH hum sub ko hidayat day ameen, ALLAH HAFIZ.
Aur kia main pooch sakti hoon keh yeh Saya bhai kahan hain aaj kul >? |
|
| Back to top |
|
 |
BABU Moderator

Joined: 29 May 2007 Posts: 2359 Location: Saudia
|
Posted: Tue Feb 26, 2008 8:01 pm Post subject: Re: Koi to kuch bolay! |
|
|
| RareGold wrote: | Asalaamu alaikum Babu bhai ye mut samjhiyeh ga main aapko discourage ker rahi hoon magar to the point aur straight forward baat kerna @asand kertti hoon issi liye koi tamheed nahi bus itna kehna hay keh aapko likhnay ka shauq hay bohot achi baat hay magar uss say zayda achi baat ye hoggie keh khud may mutalay ka shauq bhi paida keriyeh aur Urdu may abhi bohot say writers aisay hongay jinhain aap perhain to bohot kuch seekh saktay hain aur issi rah may aapkay kaam bhi aayeh ga, aap log aaj kul ki nojawan nasal hain aur jin kahanion may aap log luggay huay hain inn say laakh derjay behter hay keh hum Umera Ahmad RIffat Siraj aur aisay hee class kay likhnay walon ko na sirf khud perhain bulkeh share bhi kerain, aakhir aap iss per itna time lagatay hain unn books ki scanning per lugayen to wo sub log jo aapko shauq yaa majboori say perhtay hain wo zindagee ki REALITIES ko na sirf perh sakain gey bulkeh SEEKH bhi sakain gey kuch, ALLAH hum sub ko hidayat day ameen, ALLAH HAFIZ.
Aur kia main pooch sakti hoon keh yeh Saya bhai kahan hain aaj kul >? |
اووو۔۔ ہیلووووو
مسٔلہ کیا ہے آپ کے ساتھ؟
سمجھتی کیا ہو آپ اپنے آپ کو؟
جرات کیسے ہوئی آپ کی بابو کی تحریر کو ایسا ویسا سمجھنے کی؟؟؟؟
۔
میں تو اپنے آپ کو بہہہہہہہہہہت بڑا لکھاری سمجھ رہا تھا۔ اور امید بھی کر رہا تھا کہ اب لوگ اشتیاق احمد اور عمیرہ شمیرہ احمد کو چھوڑ کر مجھے پڑھنا شروع کر دیں گے۔
بلکہ میں تواس خوش فہمی میں بھی متبلا ہو چکا تھا کہ سال 2008 کا بیسٹ رائیٹر ایوارڈ بھی مجھے ہی ملنے والا ہے۔
۔
لیکن
آپ نے تو
میرے تو لفظ بھی میرا ساتھ چھوڑنا شروع ہو گ ۔ ۔ ۔ ۔۔
آنسوؤں کی جھڑی میں مجھے تو مونیٹر بھی ٹھیک سے نظر نہیں آ رہا۔
۔
اب آپ کان کھول کر اور آنکھیں بند کر کے میری بات سنو
۔
اگر آپ یہ لائن پڑھ رہی ہو تو اس کا مطلب ہے آپ پر میری بات کا اثر نہیں ہوا۔ جو کہ نہایت غیرمعیوب بات ہے۔
المختصر یہ کہ محترمہ، مجھے اپنے بارے میں کوئی ایسی خوش فہمی قطعی نہیں ہے کہ مجھ میں ایک اچھے رائیٹر کی صلاحیت موجود ہے جو تھوڑا پالش والش ہو کر مزید نکھر جائے گی۔ اور اللہ معاف کرے نا میرے دل میں ایک رائیٹر بننے کی کوئی شدید قسم کی خواہش ہچکولے لے رہی ہے جس کو پورا کرنے کے لئے میں یہ آغاز کر بیٹھا ہوں۔ مجھے اپنے تھرڈ کلاس، اور بے ربط قسم کے طرز تحریر کا بخوبی ادراک ہے، (اور اس ادراک پر مہر تصدیق ثبت کرکے آپ نے میری معلومات میں کوئی ایسا گراں قدر اضافہ بھی نہیں کیا جس پر مجھے آپ کا شکریہ ادا کرنا پڑے)۔ بنیادی طور پر ایک پروفیشنل سا بندہ ہوں جس کی زندگی میں فی الحال غمِ جاناں سے زیادہ غمِ روزگار کی اہمیت ہے۔ جب کبھی ہڈحرامی کا موڈ بنتا ہے تو ایسے ہی ہینگی شینگی مار دیتا ہوں، کبھی پوسٹس کی شکل میں اور کبھی ان ناولوں کی شکل میں۔اور ایسا ویسا کچھ کرنے کے لئے میں کسی کی اجازت یا مرضی کا محتاج ہر گز نہیں ہوں۔
اور میرے پاس اتنا فالتو وقت قطعی نہیں ہے کہ اچھے رائیٹرز کی پوسٹس کو سکین کر کے پوسٹ کروں۔ اور نا میں سمجھتا ہوں کہ ایسا کرنے سے میرے لئے ثوابِ دارین کا حصول ممکن ہو جائے گا۔
میرا یہ والا ناول اوریجنل واقعہ ہے اور صرف 3 بندوں کے لئے ہے۔ اور مجھے امید ہے وہ جب کبھی بھی اس کو ریڈ کریں گے تو اچھے ریمارکس دیں گے۔
آپ نے اپنا اتنا قیمتی وقت مجھ پر ضائع کیا جس پر میں ممنونیت کا اظہار کرتا ہوں۔
اور رہی بات سایہ کی تو ہمیں تو آج کل اپنی خبر نہیں رہتی جی،،، سایہ کی کیا کہہ سکتے ہیں۔ بقول شاعر:
اپنی حالت کی،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،، خود خبر نہیں مجھ کو،،،
میں نے لوگوں سے سنا ہے کہ میں پریشان بہت ہوں
ویسے سایہ اپنے دوسرے فورم پر بھی تھوڑا وقت دے رہا ہے غالباً اسلئے ادھر ریگولر نہیں رہا۔ _________________
----

. . |
|
| Back to top |
|
 |
RareGold Family Member
Joined: 30 Sep 2007 Posts: 10
|
Posted: Fri Feb 29, 2008 12:36 pm Post subject: |
|
|
Well, aap sahi keh rahay hain bhai kay na aapkay paas faltoo waqt hay SCAN kerkay kuch POST kernay ka na aisa koi irada, wo ullag baat keh aik napi tulli baat per aap ITNAY KUM ilfaaz istimaal kerkay REPLY kertay hain, waqyee sahi baat hay keh time to phir waqyee nahi hay. Dooseri baat agar aapko yeh hairat hui ho yaa burra lugga ho from annnnyyyy angle keh main nay kaisay himat kerleee aisee koi baat point out kernay ki to bhai baat hay simple aur seedhi wo ye ke jub hum kuch out of ourself kuch boltay yaa post kertay hain to usko chahay koi sun raha ho yaa perh raha ho utna hee huq rakhta hay raye denay ka, anyways aap apna kaam jari rakahiye main apna ALLAH HAFIZ  |
|
| Back to top |
|
 |
RareGold Family Member
Joined: 30 Sep 2007 Posts: 10
|
Posted: Fri Feb 29, 2008 12:42 pm Post subject: Aik baat to main bhool hee gayee thi! |
|
|
| Aur by the way threads ko STICKY kernay kay liyeh ye bhi zaroori hotta hay keh unko ginti kay do teen )aapko mila ker chaar) log nahi MAJORITY of the forum REQUEST keray yaa forum ki admin ko khud ehsaas ho keh hanh falan thread waqyee itnee ehmiyat rakhta hay among all others in that relevant catagory keh usko ooper stick kia jana chahiyeh, lihaza agar aap nay khud kia hay yaa request kee hay to baraye e karam usko wapis lay lijiyeh kion keh phir koi na koi meri terha say aayeh ga sub say ooper dekh ker issi ko perhnay beth jayeh ga aur khamkhwa may koi aisee post samnay aa jayeh gee. Mera maqsad aap logon ka dil dukhana nahi magar jo haqeeqat hay ussi ko bayan kia hay, bhai jin 3 logon kay liyeh aap likh rahay hain unn say kahiyeh keh wo scroll kerkay bhi dhoond lain inn titles ko masla to koi nahi hogga na, magar her anay walay ko to na problem ho, hain ? |
|
| Back to top |
|
 |
|